Home / پاکستان / کرپشن کی نشاندہی کرنیوالے کو ریکوری کا20فیصد دینے کا اعلان

کرپشن کی نشاندہی کرنیوالے کو ریکوری کا20فیصد دینے کا اعلان

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی 100 روزہ کارکردگی قوم کے سامنے پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ لوٹی دولت واپس لانے کیلئے 26 ممالک سے معاہدے ہوچکے ہیں ٗپاکستانیوں کے 11 ارب ڈالر ان ممالک میں موجود ہے ٗ مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں ٗ جب تک کرپشن پر قابو نہیں پاتے ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا ٗ نیب ہمارے نیچے نہیں ٗجب بڑے چوروں کی بات کرتا ہوں تو چند لوگ گلہ پھاڑ کر کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے ٗنیب ایک آزاد ادارہ ہے، نیب میں کوئی چپڑاسی بھی ہم نے بھرتی کرایا ٗنیب جو کررہاہے اس کے ذمہ دار ہم نہیں ٗ نیب سمیت سب کو تنقید برداشت کرنی چاہیے ٗوسل بلور ایکٹ بھی لا رہے ہیں جس کے تحت کوئی بھی کسی ادارے میں کرپشن کی نشاندہی کریگا تو اس کو ریکوری کا 20 فیصد دیا جائیگا ٗاسلام آباد میں مافیا قبضہ سے 350 ارب روپے کی زمین واگزار کرائی ٗ 40 لاکھ بچوں اور ماؤں کو خاص غذائیں دیں ٗغریبوں کیلئے اخوت پروگرام کے تحت 5 ارب روپے تفویض کر دیئے گئے ہیں جس کے ذریعے غریبوں کے لیے گھر تعمیر کرسکیں گے ٗپاکستان میں ہر غریب انسان کو صحت کارڈ فراہم کیا جائے گا ٗ چھوٹے کسان کے لیے لاہور میں بڑی سبزی منڈی کا افتتاح کریں گے، 70 ہزار نہروں کو پکا کریں گے جن سے بھاشا ڈیم سے زیادہ پانی کسانوں کو میسر ہوگا ٗبلوچستان میں فشری کے شعبوں کو فروغ دے کر بہترین زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں ٗ پاکستان میں جھینگے کی افزائش کے بہترین مواقع ہیں ٗبرآمدات میں بہتری، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، ترسیلات زر اور ٹیکس اصلاحات میں بہتری نہیں آئی تو ہر 2 سے 4 سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑیگا ٗ قومی سیاحتی شعبہ تشکیل دیا گیا ہے ٗ ایسی قانونی ترامیم کی جائیں گی جس کے تحت عدالتوں کو ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر فیصلہ کرنا پڑیگا ٗ بیوہ کو انصاف اور خواتین کو وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے قانون لائیں گے ٗقانونی ترمیم کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے پاکستان میں اثاثوں کو تحفظ حاصل ہوگا جبکہ لیگل ایڈ اتھارٹی کے ذریعے غریب انسان وکیل کی سہولیات حاصل کر سکے گا جو بالکل مفت ہوگا۔ جمعرات کو 100 روزہ منصوبے کے سلسلے میں کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ’’نئے پاکستان کی بنیاد رکھ دی‘‘ کے عنوان سے خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے 100 روزہ کارکردگی کا کریڈٹ بشریٰ بیگم کو دیتا ہوں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کیونکہ 100 روز میں صرف ایک چھٹی ملی اور اس دوران انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ جب کسی پر ظلم دیکھتا ہوں تو غصہ آتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے جس پر بشریٰ بی بی کہتی ہیں کہ آپ وزیر اعظم ہیں ۔ عمران خان نے کہاکہ 22سال اپوزیشن میں رہ کر اب مجھے بتانا پڑتا ہے کہ وزیر اعظم ہوں ۔ عمران خان نے کہاکہ انسان کے ہاتھ میں صرف کوشش ہے اور نیت جو اللہ جانتا ہے، کامیابی اللہ دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ 100 دن میں وہ کرنے کی کوشش کی جو راستہ ہم نماز میں مانگتے ہیں، یعنی نبی ؐکا راستہ مانگتے ہیں، انہوں نے جو مدینے کی ریاست میں کیا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے نبی ؐ نے مدینہ کی ساری پالیسیز رحم پر بنائیں ٗعام انسان کو اوپر لانے کیلئے جو کبھی نہیں ہوا، دنیا کی تاریخ اٹھا لیں کسی ریاست میں یہ نہ ہوا جو مدینہ میں ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ ساری پالیسیز کمزور طبقے کے لیے بنائی گئیں، زکواۃ پیسے والوں سے لے کر غریبوں کو دی گئیں، معذوروں، یتیموں اور بیواؤں کا خیال رکھا گیا، ہمارے نبی ؐنے فیصلہ کیا کہ جو ریاست ہے اس کی ذمہ داری انسانی معاشرے میں ایک کمزور طبقے پر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جانوروں کے معاشرے میں کمزور کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی جبکہ انسانی معاشرے میں رحم اور انصاف ہوتا ہے ٗہم نے 100 روز کے اندر جتنی بھی پالیسیاں تشکیل دیں اس میں غریب معاشرے کے بارے میں ضرور خیال رکھا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ہمارے ملک میں 3 تعلیمی نظام موجود ہیں ٗجو سب سے اعلیٰ تعلیمی نظام ہے وہ محدود طبقے کیلئے ہے جبکہ متوسط اور نچلی طبقے کیلئے کوئی معیاری تعلیم نہیں لیکن ہم ایسا تعلیمی نظام لارہے ہیں جس سے معاشرے کا ہر طبقہ اور انسان معیاری تعلیم حاصل کرسکے گا۔ عمران خان نے کہا کہ وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو مشکل سے بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ملک میں تین تعلیمی نظام بنائے ہوئے ہیں، ایک چھوٹی کلاس کیلئے انگلش میڈیم اسکول بنا دیئے، ہم نے تعلیمی نظام میں تفریق سے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا، کوشش ہے ایک تعلیمی نظام لے کر آئیں تاکہ غریب کے بچے پڑھ کر اوپر آئیں، جو غریب کے بچے اسکول میں نہیں انہیں لانے کا پلان بنایا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صحت کے نظام میں سرکاری ہسپتالوں کو ٹھیک کر رہے ہیں، ہسپتالوں میں دو معیار ہیں، سرکاری اور نجی، اگر پیسہ ہے تو اچھا علاج کرالیں ورنہ ہمارا نظام ایسا ہے جس میں گورنمنٹ سیکٹر پرائیوٹ سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہاکہ صحت انصاف کارڈ سب سے اہم ہے، اس پروگرام کے ذریعے خیبر پختونخوا میں بہت کامیابی ہوئی، عام آدمی کو صحت کارڈ سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ غریب گھرانے کا بجٹ ایک بیماری میں تباہ ہو جاتا ہے ٗ اس لیے لوگوں نے اس صحت کارڈ کو بہت پسند کیا، 5 لاکھ سے زائد صحت کارڈ جاری کیے، یہ ان کیلئے برے وقت کا انشورنس ہے، سب غریب گھرانوں کو ملک بھر میں صحت کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔غربت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایک اتھارٹی بنا رہے ہیں جس میں مختلف چیزیں کریں گے کہ غربت کیسے کم کریں۔انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے کیلئے ایک اتھارٹی بنائیں گے اور پھر غربت کا باعث بننے والی ہر چیز کو ختم کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ غریبوں کے لیے فلاحی ادارے اخوت کو 5 ارب روپے دے دیئے ہیں، اس کے علاوہ غربت کو ہاؤسنگ، تعلیم اور خوراک کے منصوبوں کے ذریعے بھی ختم کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 22 سال سے وعدہ کر رہا تھا کرپشن پر قابو پائیں گے ٗیہ مین پلان تھا، کرپشن غربت پیدا کرتی ہے ٗامیر اور غریب ملک میں کرپشن کا فرق ہے ٗجو امیر ملک ہے وہاں کرپشن نہیں، جہاں خوشحالی ہے وہاں کرپشن نہیں اور جن ممالک میں غربت ہے وہاں اس کی وجہ کرپشن ہے۔انہوں نے کہاکہ جو اللہ نے پاکستان کو دیا ہے شاید کسی ملک کو دیا لیکن ہم کرپشن کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ 100 دنوں اداروں کے حال دیکھئے، یہ ادارے صرف کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اگر میں نے پیسہ بنانا ہے تو جب تک اداروں کو تباہ نہیں کروں گا پیسہ نہیں بنا سکتا ٗمجھے کرپشن کیلئے ایف بی آر کو تباہ کرنا پڑیگا ٗ اگر وہ تباہ ہوا تو ملک پیسہ اکٹھا نہیں کر سکتا۔دوسرا اگر میں نے نیب سے بچنا ہے تو نیب صرف چھوٹے چوروں کو پکڑیگی ٗ ایک ایک ادارے کو ان لوگوں نے پیسہ بنانے کیلئے تباہ کیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہمیں انداز ہونا چاہیے کہ ملک میں کس لیول کی چوری ہوئی ہے، مجھے بھی اندازہ نہیں تھا، اب تک اداروں سے پتا چل رہا ہے، ہر روز کوئی نیا انکشاف ہو جاتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ جب بڑے چوروں کی بات کرتا ہوں تو چند لوگ گلہ پھاڑ کر کہتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے، ان کو خوف ہے کہ پتا چلے گا کہ ان لوگوں نے کیسے لوٹا، جب تک کرپشن پر قابو نہیں پاتے ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ نیب ہمارے نیچے نہیں، ایک آزاد ادارہ ہے، نیب میں کوئی چپڑاسی بھی ہم نے بھرتی کرایا، سب پہلے کی بھرتی ہے، جو نیب کرتا ہے ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں، نیب اس سے بہت بہتر کام کر سکتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ نیب سمیت سب کو تنقید برداشت کرنی چاہیے، نیب میں سزا کا تناسب 7 فیصد ہے، جو اس سے بہت زیادہ ہونا چاہیے، نیب پلی بارگین پر انحصار کرتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے اپنے منشور میں لکھا تھا کہ نیب کو مستحکم کرینگے، بدقسمتی سے ابھی اس پر کوئی اختیار نہیں، اسے با اختیار نہیں کر سکے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم ہاؤس میں اثاثہ جات ریکوری کا شعبہ بنایا اور سوئٹزرلینڈ سمیت 26 ممالک سے رابطہ کرکے معاہدے طے ہوئے تاکہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جا سکے، ان ممالک سے حاصل معلومات کے مطابق پاکستانیوں کے 11 ارب ڈالر ان ممالک میں موجود ہے جن کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔وزیر اعظم نے کہاکہ 12 ارب ڈالرز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور ابھی صرف 26 ملکوں سے اطلاعات ملیں ہیں، سوئٹزرلینڈ ابھی باقی ہے، یہ پیسہ غیرقانون ہے، بزنس مین کا ہے یا چوری کا، یہ بعد میں پتا چلے گا۔انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ سے پاناما پیپرز سے پہلے والے اکاونٹس کی تفصیلات کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اتنے کم تھے نہ چیزیں خرید سکتے تھے نہ قسطیں دے سکتے تھے، دیگر ملکوں میں مدد مانگنے گئے، دوسرے ملکوں سے پیسہ اکٹھا کرنا شروع کیا، 12 ارب ڈالر کی کمی تھی لیکن دیگر ممالک سے بہت اچھا جواب ملا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سابق حکومت میں وزیر اعظم، وزیر خارجہ سمیت دیگر وزرا نے اقامہ حاصل کیے تاکہ ان اکاؤنٹس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آسکے ٗ ان وزرا نے اقامہ کے ذریعے منی لانڈرنگ کرکے کرپشن کی ٗ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اب تک 375 ارب کے جعلی اکاؤنٹس بے نقاب کیے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی۔عمران خان نے کہا کہ دبئی سے بینک اکاؤنٹس کی جو تفصیلات ملی ہیں اس کے مطابق پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس میں تقریبا ایک ارب ڈالر موجود ہیں لیکن اقامے والوں کے اکاؤنٹس انہوں نے ہمیں نہیں دیئے۔انہوں نے کہا کہ اب پتا چلنا چاہیے کہ کیوں ملک کا وزیراعظم، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ اقامہ لے رہا ہے، ہمیں کیوں اقامے کی ضرورت نہیں، پچھلے وزیراعظم کو کیوں اس کی ضرورت تھی۔وزیر اعظم نے کہاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اقامہ مل جائے تو بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات نہیں فراہم کی جاتیں، جب بھی کہیں اکاؤنٹس کی تفصیلات لیں گے تو ان کے اکاؤنٹس نہیں آئیں گے، جب ملک کے وزیر اقامہ لیں تو وہ منی لانڈرنگ کر رہے ہیں اور اگر ملک کے وزراء ہی منی لانڈرنگ کر رہے ہوں تو پھر اس کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔پچھلے چار سالوں میں پاکستانیوں نے دبئی میں 9 ارب ڈالرز کی جائیداد لی، کیوں کسی نے کچھ نہیں کیا، ان کو فکر نہیں تھی کہ ہمارے پاس ڈالر کی کمی ہے۔حکومت کی 100 روزہ کارکردگی اور مستقبل کے پروگرامز سے آگاہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 43 فیصد بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے، پہلے ایک ہزار دن اچھی غذا نہیں ملے تو بچہ جسمانی اور ذہنی طور پر ترقی نہیں کر پاتے، ہم نے ایک پروگرام کے تحت 40 لاکھ بچوں اور ماؤں کو خاص غذائیں دیں تاکہ ایسے بچوں کی تعداد میں 30 سے 40 فیصد کمی آسکے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں کیلئے اخوت پروگرام کے تحت 5 ارب روپے تفویض کر دیئے گئے ہیں جس کے ذریعے غریبوں کے لیے گھر تعمیر کرسکیں گے۔بجلی مہنگی کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں بچلی بڑے پیمانے پر چوری ہوتی ہے اور ہر سالانہ 50 ارب روپے کی چوری ہوتی ہے ٗاب تک بڑے چوروں پر 6 ہزار مقدمات درج کر لیے ہیں۔اسلام آباد میں قبضہ مافیا سے واگزار کرائی گئی اراضی سے متعلق انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کے پاس پیسہ نہیں ہے لیکن اس کی 350 ارب روپے کی زمین واگزار کرائی ہے۔کسانوں کے حوالوں سے وزیر اعظم نے کہاکہ ٹیکنالوجی، پیسہ اور معلومات کی کمی کی وجہ سے کسان پیچھے رہ جاتا ہے، ایک پروگرام کے تحت مذکورہ تینوں شعبوں میں کسان کو معلومات فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بھی ترقی کے دھارے میں شامل ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ چھوٹے کسان کے لیے لاہور میں بڑی سبزی منڈی کا افتتاح کریں گے، جبکہ70 ہزار نہروں کو پکا کریں گے جن سے بھاشا ڈیم سے زیادہ پانی کسانوں کو میسر ہوگا۔وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں حلال گوشت کی مارکیٹ 2 ہزار ارب ڈالر پر محیط ہے جسے پورا کرنے کے لیے بھارت فعال ہے لیکن پاکستان اس میدان میں پیچھے ہے، بلوچستان میں فشری کے شعبوں کو فروغ دے کر بہترین زرمبادلہ حاصل کر سکتے ہیں جبکہ پاکستان میں جھینگے کی افزائش کے بہترین مواقع ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے اپنا نقطہ نظر بدلنا ہے، بیوروکریسی اور سیاسی جماعتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سرمایہ کار کو سرمایہ کاری کے مزید مواقع فراہم کرنے ہیں اور اسی کی بنیاد پر غربت کا خاتمہ ہو جاگا۔آئی ایم ایف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان 16 مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس گیا، ایک طرف قرض مانگ رہے ہیں تو دوسری طرف کوئی فکر نہیں کہ اربوں ڈالر باہر ہے پتا کریں کہ کیسے گئے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں بہتری، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، ترسیلات زر اور ٹیکس اصلاحات میں بہتری نہیں آئی تو ہر 2 سے 4 سال بعد آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دے کر غربت کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے اور اس سلسلے میں قومی سیاحتی شعبہ تشکیل دیا گیا ہے، اگر ملائیشیا سیاحتی آمدنی سے سالانہ 20 ارب ڈالر کماتا ہے تو پاکستان میں بے شمار سیاحتی مراکز ہیں جہاں سے ملائیشیا کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ آمدنی ہوسکتی ہے۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان کے پاس بہت بڑا ساحل موجود ہے، اس کے علاوہ ہمارے ہاں مذہبی سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، سکھوں، ہندوؤں اور بدھ مت کا سب سے بڑا مجسمہ بھی پاکستان میں موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے شمالی علاقہ جات میں سوئٹزرلینڈ سے زیادہ پہاڑ موجود ہیں، دنیا کے بڑے پہاڑوں میں سے 6 ہمارے شمالی علاقہ جات میں موجود ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پختونخوا میں 2013 سے 2018 تک غربت آدھی ہو گئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ سیاحت ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ ملک کی 21 کروڑ عوام میں سے صرف 72 ہزار ایسے افراد ہیں جو اپنی آمدن ماہانہ 2 لاکھ سے آمدن ظاہر کرتے ہیں جس کا بوجھ پورا ملک برداشت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیکس کے نظام کو ٹھیک کرنا ہے اور اسمگلنگ کو روکنا ہے ٗاسمگلنگ کی وجہ سے جو لوگ ٹیکس دیتے ہیں انہیں نقصان ہو جاتا ہے اور جو ٹیکس نہیں دیتے انہیں فائدہ ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ بلیک اکانومی ہماری خوشحالی روکتی ہے، ہماری انویسٹمنٹ روکتی ہے، جسے ہم نے ٹھیک کرنا ہے۔نئے قوانین اور قانونی ترامیم سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ ایسی قانونی ترامیم کی جائیں گی جس کے تحت عدالتوں کو ایک سے ڈیڑھ سال کے اندر فیصلہ کرنا پڑے گا، بیوہ کو انصاف اور خواتین کو وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے قانون لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ قانونی ترمیم کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے پاکستان میں اثاثوں کو تحفظ حاصل ہوگا جبکہ لیگل ایڈ اتھارٹی کے ذریعے غریب انسان وکیل کی سہولیات حاصل کر سکے گا جو بالکل مفت ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ وسل بلور ایکٹ بھی لا رہے ہیں جس کے تحت کوئی بھی کسی ادارے میں کرپشن کی نشاندہی کرے گا تو اس کو ریکوری کا 20 فیصد دیا جائے گا اور حکومت اس شخص کا نام بھی صیغہ راز میں رکھے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا تنخواہ دار اور نچلا طبقہ تکلیف میں ہے، قیمتیں بڑھنی ہی تھیں اور مجھے اس چیز کا احساس ہے، جتنی کوشش کر سکتے ہیں ہم کر رہے ہیں، ساری وزارتوں کو کہا کہ پیسے بچائیں، گورنر کے پی کے شاہ فرمان نے اب تک 13 کروڑ اور میں نے 15 کروڑ روپے بچائے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ لوگ مذاق کر رہے ہیں کہ ہم نے بھینس فروخت کر دی، یہ بھینس بیچنے کی بات نہیں بلکہ عوام کے پاس کھانے کو پیسہ اور رہنے کے لیے رہائش بھی نہیں ہے، ہمیں ڈر ہے کہ ہم نے اللہ کو جواب دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن آگے آنے والے دن آسان نہیں مشکل ہیں، 10 سالوں میں قرضہ 6 ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے ہو گیا تو قرضہ واپس تو کرنا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ایک مشکل وقت ہے لیکن یقین دلاتا ہوں کہ جس طرح سے بیرون ملک سے سرمایہ کار یہاں آ رہے ہیں، لوگوں کو پتا ہے کہ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت ہے اور حکومت کرپٹ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیم کی راہ میں حائل رکاؤٹیں دور کی جا رہی ہیں، اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے اور گھر اس لیے نہیں بنے کہ گھروں کے لیے جو قرضہ چاہیے وہ پاکستان میں دستیاب ہی نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہاؤسنگ سے 40 صنعتیں براہ راست متاثر ہوتی ہیں، اسکیم سے سارے معاشرے میں روزگار ملے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب کی تعریف کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سب کہتے ہیں کہ کس کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا، یہ سادہ آدمی ہے، کوئی بڑا ڈرامہ نہیں، بڑی ٹوپیاں پہن کر نہیں گھومتا۔عمران خان نے کہا کہ اب تک پنجاب نے 88 ہزار ایکڑ کی زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرائی ہے جس کی رقم کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔

About رخسار

Check Also

پنجاب کے وزرا کے احتساب کا دن قریب آنے لگا،عمران خان

لاہور(نیوزڈیسک) پنجاب کے وزرا کا احتساب کا دن قریب آنے لگا ‘ وزیر اعظم عمران …

جواب دیں